سے ہر ایک نے ماہِ رَمَضانُ الْمبارک میں ایک ہی دن افطار کی دعوت دی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سب کی دعوت قَبول فرمالی ، جب غروبِ آفتاب کا وَقت ہوا تو ایک ہی وَقت میں سب کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ روزہ افطار فرمایا۔ (جامع کرامات الاولیاء للنبہانی ج ۱ ص ۵۵۶)
{۲} فوراًبارِش بند ہو گئی (حکایت)
ایک مرتبہ بارش برس رہی تھی تو حضرتِ سیِّدُنا مجدِّدِ اَلْفِ ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور بارِش سے اِرشاد فرمایا: ’’فُلاں وَقت تک رُک جا! ‘‘ چُنانچِہ بارش اُسی وَقت تک تَھم (یعنی رُک) گئی۔ (ایضاً ج۱ص۵۵۶)
{۳} اِسے ہاتھی کے پاؤں تلے کُچلوا دیا جائے (حکایت)
ایک امیر زادے سے بادشاہ ناراض ہوگیااور اسے مرکز الاولیا (لاہور) سے سرہند طلب کیا۔ اس کے بارے میں یہ حکم جاری کیا کہ جیسے ہی یہ آئے تواسے ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کُچلوا دیا جائے۔ وہ امیر زادہ جب سرہند پہنچا تو حضرتِ سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمتِ بابرکت میں حاضِر ہو کر نہایت ہی عاجِزی کے ساتھ اپنی نَجات کے لیے عرض گزار ہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ دیر مُراقَبہ کیا پھر فرمایا: بادشاہ کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی بلکہ وہ تم پر مہربان ہوگا۔ اس امیر زادے نے عرض کی: عالیجاہ! آپ لکھ کر دے دیجیے تاکہ یہ تحریر میری تسکینِ قلبی (یعنی دل کے سکون) کا سامان ہو ۔ چُنانچِہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی تسلّی کے لیے یہ تحریر فرمایا: ’’ یہ شخص بادشاہ کے غصّے کے خوف