روایت ہے ، حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب’’ غزوۂ سلاسل‘‘ سے واپس لوٹے تو انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: (عورتوں میں ) عائشہ۔ انہوں نے پھر عرض کی: مردوں میں ؟ فرمایا: ان کے والد (یعنی حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ۔ (بخاری ج ۲ ص ۵۱۹ حدیث ۳۶۶۲)
بنت صدیق آرام جان نبی اس حریم براء ت پہ لاکھوں سلام
یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام ( حدائقِ بخشش شریف ص۳۱۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ولی ولی کو پہچانتا ہے (حکایت)
حضرت سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جن دنوں مرکزالاولیا لاہور میں قیام پذیر تھے اس دوران ایک سبزی فروش آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس کے جانے کے بعد آپ سے عرض کی گئی: وہ تو سبزی فروش تھا! (اس کی ایسی تعظیم؟) ارشاد فرمایا: وہ ابدال (یعنی وَلِیُّ اللّٰہ ) ہیں ، خود کو چھپانے کے لیے یہ پیشہ اختیار کر رکھاہے ۔ (حَضَراتُ القُدْس، دفتر دُوُم ص۹۸ )
’’ سرہندشریف ‘‘ کے نو حُرُوف کی نسبت سے 9 کرامات
{۱} ایک وَقت میں دس گھروں میں تشریف آوری (حکایت)
حضرت سیِّدُنا مجدِّدِ اَلْفِ ثانی شیخ احمد سرہندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کو دس مریدوں میں