Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
98 - 764
کے) پر دے کے پیچھے ہویا (یہ کہ) اللہ کوئی فرشتہ بھیجے تو وہ فرشتہ اس کے حکم سے وحی پہنچائے جو اللہ چاہے۔بیشک وہ بلندی والا، حکمت والا ہے۔
{وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا: اور کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ  اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر۔} اس سے پہلی آیات میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور علم و حکمت کے کمال کو بیان فرمایا اور اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی کرنے اور ان سے کلام کرنے کی صورتیں  بیان فرمائی ہیں ۔( تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۱، ۹/۶۱۱)
	آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں  کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے البتہ تین صورتیں  ایسی ہیں  جن میں  کسی فردِبشر سے کلام ممکن ہے۔
(1)… وحی کے طور پر۔یعنی اللہ تعالیٰ کسی واسطہ کے بغیر اس کے دل میں  اِلقا فرما کر اور بیداری میں  یا خواب میں  اِلہام کرکے کلام فرمائے۔ اس صورت میں  وحی کا پہنچنا فرشتے اور سماعت کے واسطے کے بغیر ہے اور آیت میں  ’’اِلَّا وَحْیًا‘‘ سے یہی مراد ہے۔نیز اس میں  یہ قید بھی نہیں  کہ اس حال میں  جس کی طرف وحی کی گئی ہو وہ کلام فرمانے والے کو دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو۔
	 امام مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سینۂ مبارک میں  زبور کی وحی فرمائی۔ اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرزند ذبح کرنے کی خواب میں  وحی فرمائی اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے معراج میں  اسی طرح کی وحی فرمائی جس کا ’’فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى‘‘ میں  بیا ن ہے۔ یہ سب اسی قسم میں  داخل ہیں ، انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب حق ہوتے ہیں  جیسا کہ حدیث شریف میں  ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب وحی ہیں ۔
 (2)… وہ آدمی عظمت کے پر دے کے پیچھے ہو۔ یعنی رسول پسِ پردہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنے، وحی کے اس طریقے میں  بھی کوئی واسطہ نہیں  لیکن سننے والے کو اس حال میں  کلام فرمانے والے کا دیدار نہیں  ہوتا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی طرح کے کلام سے مشرف فرمائے گئے ۔
	شانِ نزول: یہودیوں  نے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں  تو اللہ تعالیٰ