Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
97 - 764
ہی کر ڈالنا ،یہ ا س مجبور اور بے بس کے ساتھ کہاں  کا انصاف ہے،افسوس!ہمارے آج کے معاشرے میں مسلمانوں  نے اُس طرزِ عمل کو اپنایا ہوا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ تھا،جیسا کہ اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸،۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں  سے چھپا پھرتا ہے۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں  دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔
	 افسوس! اسلام نے عورت کو جس آگ سے نکالا آج کے لوگ اسے پھر سے اسی میں  جھونک رہے ہیں ۔ اسلام نے کفار کے چھینے ہوئے جو حق عورت کو واپس دلائے آج کے مسلمان وہی حق چھیننے میں  لگے ہوئے ہیں  ۔اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کی چکی سے نکال کر معاشرے میں  جو عزت اور مقام عطا کیا ،آج کے مسلمان دوبارہ اسے اسی چکی میں  پسنے کے لئے دھکیل رہے ہیں  اور شاید انہی بد عملیوں  کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام کے دشمن عورت کے حقوق کی آڑ میں  مسلمانوں  کے اسی کردار کو دنیا کے سامنے پیش کر کے دینِ اسلام جیسے امن کے عَلَمْبردار مذہب کو ہی دہشت گرد مذہب ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور کسی آدمی کو نہیں  پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں  کہ وہ بشر پر دۂ عظمت کے اُدھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بے شک وہ بلندی و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کسی آدمی کیلئے ممکن نہیں  کہ اللہ  اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا (یوں  کہ وہ آدمی عظمت