Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
99 - 764
سے کلام کرتے وقت اس کو کیوں  نہیں  دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دیکھتے تھے؟ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہیں  دیکھتے تھے بلکہ صرف کلام سنتے تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
	 یہاں  یہ مسئلہ یاد رکھیں  کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا پردہ ہو جیسا جسمانیات کے لئے ہوتا ہے اور آیت میں  مذکور پردہ سے مراد سننے والے کا دنیا میں  دیدار نہ کر سکنا ہے۔
(3)…اللہ تعالیٰ کوئی فرشتہ بھیجے تو وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وحی پہنچائے جو اللہ تعالیٰ چاہے۔ وحی کے اس طریقے میں  رسول کی طرف وحی پہنچنے میں  فرشتے کا واسطہ ہے۔( تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۱، ۹/۶۱۱، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۱۰۹۳، ابو سعود، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۱، ۵/۵۳۴، ملتقطاً)
{اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ: بیشک وہ بلندی والا، حکمت والا ہے۔} یعنی بے شک اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات سے بلند اور پاک ہے اور وہ اپنے تمام اَفعال میں  حکمت والا ہے، یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ اِلقاء اور اِلہام کے ذریعے اور کبھی اپنا کلام سنا کر بغیر واسطے کے کلام کرتا ہے ا ور کبھی فرشتوں  کے واسطے سے کلام فرماتا ہے۔( تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۱، ۹/۶۱۴)
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ-مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاؕ-وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ(۵۲) صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور یونہی ہم نے تمہیں  وحی بھیجی ایک جانفزا چیز اپنے حکم سے اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکامِ شرع کی تفصیل ہاں  ہم نے اُسے نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں  اپنے بندوں  سے جسے چاہتے ہیں  اور بے شک