Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
96 - 764
اپنی مِلکِیَّت میں  موجود چیزوں  پر غرور نہ کیا جائے:
	امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ بیان فرمانے سے مقصود یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی مِلکِیَّت میں  موجود مال اور عزت و شہرت کی وجہ سے مغرور نہ ہو ،کیونکہ جب اسے اس بات کا یقین ہو گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں  ہے یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے تو اس صورت میں  وہ مزید اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کی طرف مائل ہو گا اور جب ا س کا اعتقاد یہ ہو گا کہ ا س کے پاس جو نعمتیں  ہیں  وہ اس کی عقلمندی اور کوشش کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں  تو وہ اپنے نفس پر غرورکرے گا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور ہوجائے گا۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۹/۶۰۹)
{یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا: جسے چاہے بیٹیاں  عطا فرمائے۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے عالَم میں  اپنے تَصَرُّف  اور اپنی نعمت کو تقسیم کرنے کی صورتیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ جسے چاہے صرف بیٹیاں  عطا فرمائے اور بیٹانہ دے اور جسے چاہے صرف بیٹے دے اور بیٹیاں  نہ دے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں  دونوں  ملا کردے اور جسے چاہے بانجھ کردے کہ اس کے ہاں  اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے اورجسے جو چاہے دے۔ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں  بھی کئی صورتیں  پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں  صرف بیٹیاں  تھیں  ،کوئی بیٹا نہ تھا جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں  صرف بیٹے تھے ،کوئی بیٹی نہیں  تھی اور انبیاء کے سردار، حبیب ِخدا،محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے چار (یا تین)فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں  عطا فرمائیں ۔
 بیٹے اور بیٹیاں  دینے یا نہ دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے:
	ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی کے ہاں  صرف بیٹے پیدا کرنے،کسی کے ہاں  صرف بیٹیاں  پیدا کرنے اور کسی کے ہاں بیٹے اور بیٹیاں  دونوں  پیدا کرنے کا اختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،کسی عورت کے بس میں  یہ بات نہیں  کہ وہ اپنے ہاں  بیٹا یا بیٹی جو چاہے پیدا کر لے، اور جب یہ بات روشن دن سے بھی زیادہ واضح ہے تو بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو مَشقِ سِتم بنانا،اسے طرح طرح کی اَذِیَّتیں  دینا،بات بات پہ طعنوں  کے نشتر چبھونا ،آئے دن ذلیل کرتے رہنا،صرف بیٹیاں  پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا اورطلاق دے دینا،قتل کی دھمکیاں  دینا بلکہ بعض اوقات قتل