حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافِیّت، امن و سلامتی ہو یا مقام و مرتبہ تووہ اس پر خوشی میں اِترانے اور فخر کرنے لگ جاتا ہے اور اگر انہیں ان کی نافرمانیوں اور مَعصِیَتوں کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے یااور کوئی مصیبت و بلا جیسے قحط ، بیماری اور تنگ دستی وغیرہ رُونُما ہو تو انسان بڑا ناشکرا ہوجاتاہے اور ان مصیبتوں کو دیکھ کر نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔( خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴/۱۰۰، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۰۹۲، ملتقطاً)
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان: اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے ۔ وہ جو چاہے پیدا کرے ۔جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا دے اور جسے چاہے بانجھ کردے،بیشک وہ علم والا، قدرت والا ہے۔
{لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} یعنی آسمانوں اور زمین کاحقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ ان میں جیسا چاہتاہے تَصَرُّف فرماتا ہے اوراس میں کوئی دخل دینے اور اِعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۸/۳۴۲، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۴/۱۰۰، ملتقطاً)