اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی زندگی میں اپنی آخرت کی بھرپور تیار ی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ-اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُؕ-وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَاۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو اگر وہ منہ پھیریں تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر اُنھیں کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو انسان بڑا ناشکرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اگر وہ منہ پھیریں تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا تم پر صرف تبلیغ کی ذمے داری ہے اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں تووہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو انسان بڑا ناشکرا ہے۔
{فَاِنْ اَعْرَضُوْا: تو اگر وہ منہ پھیریں ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ا رشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے دینِ اسلام کی دعوت دینے کے باوجود اگر وہ مشرکین ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے سے منہ پھیر رہے ہیں تو آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ، کیونکہ ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا کہ آپ پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو،آپ پر صرف رسالت کی تبلیغ کی ذمے داری ہے اور وہ آپ نے ادا کردی۔( تفسیرطبری، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۱/۱۶۱، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴/۱۰۰، جلالین، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۴۰۵، ملتقطاً)
{وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً: جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں ۔} آیت کے اس