{وَ تَرٰىهُمْ: اور تم انہیں دیکھو گے۔} یعنی جب ظالموں کو آگ پر پیش کیا جائے گا تو ا س وقت تم انہیں اس حال میں دیکھو گے کہ وہ ذلت و خوف کے باعث جہنم کی آگ کو ایسی چھپی نگاہوں سے دیکھیں گے جیسے قتل کا ملزم اپنے قتل کے وقت تلوار کو دیکھتا ہے کہ یہ اب مجھ پر چلنے والی ہے اور جب ایمان والے کفار کا یہ حال دیکھیں گے توکہیں گے :بیشک نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن ہار بیٹھے۔اپنی جانوں کوہارنا تو یہ ہے کہ وہ کفر اختیار کرکے جہنم کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوئے اور گھر والوں کو ہارنا یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں جنت کی جو حوریں اُن کے لئے نامزد تھیں ان سے وہ محروم ہوگئے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ خبردار! بیشک ظالم یعنی کافر ہمیشہ کے عذاب میں ہیں ۔(مدارک، الشوری،تحت الآیۃ: ۴۵، ص۱۰۹۲، جلالین، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۴۰۴-۴۰۵، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۵، ۴/۹۹، ملتقطاً)
وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور اُن کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل اُن کی مدد کرتے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کیلئے دوست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ۔
{وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ: اور ان کیلئے دوست نہ ہوں گے۔} یعنی جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کافروں کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے عذاب سے بچا سکیں ،اور جسے اللہ تعالیٰ دنیا میں حق کے راستے سے بھٹکا دے تو اس کے لئے