Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
91 - 764
ایسا کوئی راستہ نہیں  جو اسے دنیا میں  حق تک اور آخرت میں  جنت تک پہنچا سکے ،کیونکہ کسی کو ہدایت دے دینا یا اس میں  گمراہی پیدا کر دینا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کے اختیار میں  نہیں ۔( تفسیرطبری، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۶، ۱۱/۱۶۰، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴/۹۹، ملتقطاً)
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِؕ-مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَىٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: اپنے رب کا حکم مانو اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں  اس دن تمہیں  کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں  انکار کرتے بنے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ۔اس دن تمہارے لئے کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کرنا ممکن ہوگا۔
{اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ: اپنے رب کا حکم مان لو۔} اس سے پہلی آیات میں  وعدہ اورو عید بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں  وہ چیز بیان کی جارہی ہے جو مقصودِ اصلی ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! وہ دن جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ، اس کے آنے سے پہلے پہلے تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے داعی کا حکم مان لواور محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ پر ایمان لے آؤ نیز تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے جوکچھ یہ لائے ہیں  اس میں  ان کی فرمانبرداری کرلو۔اے لوگو! (یاد رکھو،جب وہ دن آئے گاتو)اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی کہ جس میں  پناہ لے کر تم اپنے دُنْیَوی کفر کی بنا پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکو اور نہ تمہارے لئے اپنے کفر و شرک اور گناہوں  سے انکار کرنا ممکن ہوگا، الغرض !اس دن رہائی کی کوئی صورت نہیں ، نہ عذاب سے بچ سکوگے اورنہ اپنے ان قبیح اَعمال کا انکار کرسکو گے جو تمہارے اعمال ناموں  میں  درج ہیں ۔آیت میں  جس دن کا ذکر ہوا اس سے موت کا دن یا قیامت کا دن مراد ہے۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۷، ۹/۶۰۸-۶۰۹، تفسیرطبری، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱۱/۱۶۰، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۷، ۴/۹۹-۱۰۰، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۱۰۹۲، ملتقطاً)