Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
89 - 764
عذاب دیکھیں  گے کہیں  گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جسے اللہ گمراہ کرے تواس کے بعد اس کیلئے کوئی مددگار نہیں  اور تم ظالموں  کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب دیکھیں  گے توکہیں  گے: کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے؟
{وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ: اور جسے اللہ گمراہ کرے۔} یعنی جس کی بد عملیوں  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس میں  گمراہی پیدا کر دے تواس کے بعد اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  اس کیلئے کوئی مددگار نہیں  کہ اُسے عذاب سے بچاسکے اور تم قیامت کے دن کفر اور گناہوں  کا اِرتکاب کر کے اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والوں  کو ا س حال میں  دیکھو گے کہ وہ عذاب دیکھ کرکہیں  گے: کیا دنیا میں واپس جانے کا کوئی راستہ ہے تاکہ وہاں  جا کر ایمان لے آئیں ؟( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۴، ۸/۳۳۷-۳۳۸، ملخصاً)
وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّؕ-وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم اُنھیں  دیکھو گے کہ آگ پر پیش کئے جاتے ہیں  ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں  دیکھتے ہیں  اور ایمان والے کہیں  گے بے شک ہارمیں  وہ ہیں  جو اپنی جانیں  اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن سنتے ہو بے شک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں  ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم انہیں  دیکھو گے کہ انہیں  اس حال میں آگ پر پیش کیا جائے گا کہ ذلت کے مارے جھکے ہوئے ہوں  گے، چھپی نگاہوں  سے دیکھ رہے ہوں  گے اور ایمان والے کہیں  گے :بیشک نقصان والے وہی ہیں  جنہوں  نے اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کو قیامت کے دن نقصان میں  ڈالا۔ خبردار! بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں  ہیں ۔