وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ(۴۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا اُن پر کچھ مواخذہ کی راہ نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا ان کی پکڑ کی کوئی راہ نہیں ۔
{وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ: اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا۔} یعنی جنہوں نے ظالم کے ظلم کے بعد اس سے اپنی مظلومی کا بدلہ لیا ان پر کوئی سزا نہیں کیونکہ انہوں نے وہ کام کیا ہے جو ان کے لئے جائز تھا۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۱، ۸/۳۳۶)
مظلوم کا بدلہ لینا ظلم نہیں :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مظلوم کا ظالم سے بدلہ لینا ظلم نہیں اور نہ ہی اس پر سزا ہے ،لیکن یہ یاد رہے کہ جن ظلموں کی سزا دینے کا اختیار صرف حاکمِ اسلام کے پاس ہے ان کی سزا کوئی اور از خود نہیں دے سکتا۔ جیسے قاتل سے قصاص لیناوغیرہ۔
اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: مواخذہ تو اُنھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔