’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لئے (جنت میں ) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کر دیا کرے ،جو اسے محروم کرے اسے عطا کیا کرے اور جو اس سے تعلق توڑے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرے۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ آل عمران، شرح آیۃ: کنتم خیر امّۃ۔۔۔ الخ، ۳/۱۲، الحدیث: ۳۲۱۵)
یاد رہے کہ ظالم سے بدلہ لینا ایک فطرتی تقاضا ہے اور شریعت نے ا س کی اجازت بھی دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نے تھپڑ مارا تو اسے دو تھپڑ مارے جائیں ،کسی نے سر پھاڑا تو اس کے سر کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی ادھیڑ کر رکھ دیاجائے ،کسی نے بازو توڑا تو اس کے بازو کو جسم سے ہی اتار دیا جائے ،کسی نے ٹانگ توڑی تو اس کی ٹانگ ہی کاٹ دی جائے ،کسی نے قتل کر دیا تو ا س کے پورے خاندان کو ہی موت کی نیند سلا دیا جائے بلکہ جتنا اس پر ظلم ہوا اتنا ہی بدلہ لینے کی اجازت ہے اس سے زیادہ بدلہ ہر گز نہیں لے سکتا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِۙ-وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّۙ-وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌؕ-فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ‘‘(مائدہ:۴۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تورات میں ان پرلازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت (کا قصاص لیا جائے گا) اور تمام زخموں کا قصاص ہوگاپھر جو دل کی خوشی سے (خود کو) قصاص کے لئے پیش کردے تویہ اس کا کفارہ بن جائے گا اور جواس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔
اس آیت میں اگرچہ یہود یوں پر قصاص کے اَحکام بیان ہوئے لیکن چونکہ ہمیں اُن کے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اس لئے ہم پر بھی یہی اَحکام لازم ہیں ،لہٰذا بدلہ لینے میں ا س کی حد سے ہر گز تجاوُز نہ کیا جائے بلکہ کوشش یہی کی جائے کہ جس نے ظلم کیا اسے معاف کر دیا جائے تاکہ آخرت میں کثیر اجر و ثواب حاصل ہونیز جہاں بدلہ لینا بھی ہے وہاں بھی حاکمِ وقت کے ذریعے لیا جائے گا ، نہ یہ کہ خود ہی قاضی بن گئے اور خود ہی جَلّاد