Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
87 - 764
{اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جولوگوں  پر ظلم کرتے ہیں ۔} یعنی گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جو ابتداء ً لوگوں  پر ظلم کرتے ہیں  اور تکبُّر اور گناہوں  کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں  ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔( مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۱۰۹۱، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۲، ۴/۹۹، ملتقطاً)
ظلم کی اَقسام:
	 یاد رہے کہ ظلم کی دو قسمیں  ہیں (1) شخصی ظلم ۔(2) قومی ظلم۔آیت کے ا س حصے ’’ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ‘‘ میں  شخصی ظلم مراد ہے جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، مال مار لینا، اور آیت کے اس حصے ’’وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ‘‘ میں  قومی ظلم مراد ہے، جیسے ملک و قوم سے غداری اوربادشاہِ اسلام سے بغاوت وغیرہ۔دونوں  قسم کے ظالموں  سے بدلہ لینا چاہیے ، لیکن پہلے ظالم کو معافی دے دینا حسنِ اَخلاق ہے اوردوسرے ظالم کو بلاوجہ معافی دینا سخت ظلم ہے،اسے عبرتناک سزا دینی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے۔یہ آیتِ کریمہ ملکی انتظامات، حُکّام کے فیصلوں  اور معاملات کی جامع آیت ہے۔
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں  میں  سے ہے۔
{وَ لَمَنْ صَبَرَ: اور بیشک جس نے صبر کیا۔} یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں  بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں  میں  سے ہے کہ اس میں  نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔
ظلم پر صبر کرنے کے فضائل:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں  کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پرصبر کرلینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: