Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
84 - 764
ترجمۂکنزالایمان:  اور بُرائی کا بدلہ اُسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بے شک وہ دوست نہیں  رکھتا ظالموں  کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ ظالموں  کوپسند نہیں  کرتا۔
{وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ بدلہ جرم کے برابر ہونا چاہیے اوراس میں  زیادتی نہ ہو، اور بدلے کو برائی سے صورۃً مشابہ ہونے کی وجہ سے مجازی طور پربرائی کہا جاتا ہے کیونکہ جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے برا معلوم ہوتا ہے اور بدلے کو برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں  یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن معاف کر دینا اس سے بہتر ہے۔( مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۱۰۹۱، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۰، ۴/۹۹، ملتقطاً)
{فَمَنْ عَفَا: تو جس نے معاف کیا۔} یعنی جس نے ظالم کو معاف کر دیا اور معافی کے ذریعے اپنے اور ظالم کے مابین معاملے کی اصلا ح کی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ٔکرم پر ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں  کو پسند نہیں  کرتا جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں  یا بدلہ لینے میں  حد سے تجاوُز کرتے ہیں ۔( مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۱۰۹۱)
ظالم کو معاف کردینے کے فضائل:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ برائی کے برابر بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن بدلہ نہ لینا اور معاف کر دینا افضل ہے۔ ترغیب کے لئے یہاں  ظالم کو معاف کر دینے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)…نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن عرش کے درمیانی حصے سے ایک مُنادی اعلان کرے گا’’اے لوگو! سنو،جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ٔکرم پر ہے اسے چاہئے کہ وہ کھڑ اہو جائے،تو اس شخص کے علاوہ اور کوئی کھڑا نہ ہو گا جس نے(دنیا میں ) اپنے بھائی کا جرم معاف کیا تھا۔( ابن عساکر، ذکر من اسمہ ربیعۃ، ۲۱۵۹-الربیع بن یونس بن محمد بن کیسان۔۔۔ الخ، ۱۸/۸۷)
(2)… حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: