نماز پڑھنے کی اہمیت:
اس آیت میں انصار کا ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہو گا وہ نماز ہے،اگر یہ عمل صحیح ہوا تو کامیابی اور نجات ہے اور اگر یہ ٹھیک نہ ہوا تو وہ ناکام ہوا اور ا س نے نقصان اٹھایا۔اگر فرض نماز میں کچھ کمی رہ گئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے،پھر اس سے فرض کی کمی پوری کی جائے گی،پھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا۔(ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء انّ اوّل یحاسب بہ العبد۔۔۔ الخ، ۱/۴۲۱، الحدیث: ۴۱۳)
مشورہ کرنے کی اہمیت:
اور ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ باہمی مشورے سے اپنے کام کرتے ہیں ۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی اِجتہادی اُمور میں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا:
’’وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘(ال عمران:۱۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔
اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بعدصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی دینی اور دُنْیَوی اہم اُمور باہمی مشورے سے طے کیا کرتے تھے ۔
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے حاکم اچھے لوگ ہوں ،تمہارے مالدار سخی لوگ اور تمہارے کام باہمی مشورے سے طے ہوں تو زمین کا ظاہر اس کے باطن سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور جب تمہارے حاکم شریر لوگ ہوں ، تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کے ظاہر سے زیادہ بہتر ہے۔( ترمذی، کتاب الفتن، ۷۸-باب، ۴/۱۱۸، الحدیث: ۲۲۷۳)
اورحضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے۔( مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۱۰۹۰)