اللہ تعالیٰ ہمیں غصہ کرنے سے بچنے اور غصہ آجانے کی صورت میں معاف کردینے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔()
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (ان کے لئے) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانااور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ: اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا۔} یعنی اجر و ثواب ان لوگوں کے لئے بھی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار اور اس کی عبادت کرکے اپنے رب کا حکم مانااورپابندی کے ساتھ نماز پڑھتے رہے اور جب انہیں کوئی کام درپیش ہوتو وہ ان کے باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اَقدس سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی دعوت قبول کرکے ایمان اور طاعت کو اختیار کیا۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہجرت سے پہلے ان پر بارہ نقیب مقرر فرمائے، ان انصار کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جب انہیں کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو پہلے آپس میں مشورہ کرتے ہیں پھر وہ کام سرانجام دیتے ہیں ،اس میں وہ جلد بازی اور اپنی من مرضی نہیں کرتے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔(جلالین مع صاوی،الشوری،تحت الآیۃ:۳۸، ۵/۱۸۷۸-۱۸۷۹،روح البیان،الشوری،تحت الآیۃ:۳۸،۸/۳۳۱،ملتقطاً)