صدقہ دینے کی اہمیت:
اور ایک وصف یہ بیان ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں ۔ اس سے مراد تمام قسم کے صدقات ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندہ جب صدقہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دست ِقدرت میں آجاتا ہے اور جو بندہ بلا ضرورت سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فَقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔( معجم الکبیر، وما اسند عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما، مقسم عن ابن عباس، ۱۱/۳۲۰، الحدیث: ۱۲۱۵۰)
اللہ تعالیٰ ہمیں پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے،اپنے اہم کاموں میں صحیح مشورہ دینے والوں سے مشورہ کرنے اور صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کہ جب اُنھیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (ان کے لیے) جنہیں جب کوئی زیادتی پہنچے تو وہ (انصاف کے ساتھ) بدلہ لیتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ: اور وہ کہ جنہیں جب کوئی زیادتی پہنچے۔} یعنی اجر و ثواب ان کیلئے بھی ہے کہ جن پر کوئی ظلم کرے تو وہ اس سے انصاف کے ساتھ بدلہ لیتے ہیں اور بدلہ لینے میں حد سے تجاوُز نہیں کرتے۔
ابنِ زید کا قول ہے کہ مومن دو طرح کے ہیں ایک وہ جو ظلم کو معاف کرتے ہیں ۔ پہلی آیت میں اُن کا ذکر فرمایا گیا۔ دوسرے وہ جو ظالم سے بدلہ لیتے ہیں ، ان کا اس آیت میں ذکر ہے۔
اورحضرت عطا رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہ وہ مومنین ہیں جنہیں کفار نے مکہ مکرمہ سے نکالا اوراُن پر ظلم کیا پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سرزمین میں تَسَلُّط دیا اور اُنہوں نے ظالموں سے بدلہ لیا۔( مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۱۰۹۱، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴/۹۸-۹۹، ملتقطاً)