Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
79 - 764
	غصہ آنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جب انسان کسی اور سے کوئی بات کرتا یا اسے کوئی کام کرنے کا کہتا ہے اور وہ بات نہیں  مانتا یا وہ کام نہیں  کرتا تو غصہ آجاتا ہے،ایسی حالت میں  انسان کو چاہئے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دے یا ایسے اَسباب اختیار کرے جن سے غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہو،ترغیب کے لئے یہاں  غصہ ٹھنڈا کرنے کے 3 طریقے ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہم سے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے ،اگر ا س کا غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ اسے چاہئے کہ لیٹ جائے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۴۷۸۳)
(2)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ خاموش ہو جائے۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن العباس۔۔۔ الخ، ۱/۵۱۵، الحدیث: ۲۱۳۶)
	علامہ ابنِ رجب حنبلی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’یہ غصے کا بہت بڑا علاج ہے کیونکہ غصہ کرنے والے سے غصے کی حالت میں  ایسی بات صادر ہو جاتی ہے جس پر اسے غصہ ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ ندامت اٹھانی پڑتی ہے، جیسے غصے کی حالت میں  گالی وغیرہ دے دینا جس کا نقصان بہت زیادہ ہے ،تو جب وہ خاموش ہو جائے گا تو اسے اس کے کسی شر کا سامنا نہیں  کرنا پڑے گا۔( جامع العلوم و الحکم، الحدیث السادس عشر، ص۱۸۴)
(3)…حضرت عطِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیاگیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جا سکتا ہے ، لہٰذاجب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے تو اسے وضو کر لینا چاہئے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۴۷۸۴)