Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
78 - 764
فرمائیں  اور تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’اَلزَّوَاجِر لِاِقْتِرَافِ الْکَبَائِر‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔()
{وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ: اور جب انہیں  غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔} اس آیت میں  کسی پر غصہ آنے کی صورت میں  معاف کر دینے والے کو بھی اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو اس وقت در گُزر کرنا اور بُردباری کا مظاہرہ کرنا اَخلاقی اچھائیوں  میں  سے ہے لیکن اس میں  شرط یہ ہے کہ در گزر کرنے سے کسی واجب میں  خَلَل واقع نہ ہو اور اگر کسی واجب میں  خَلَل واقع ہو تو غضب کا اظہار کرنا ضروری ہے جیسے کوئی اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کسی کام کو کرے تو اس وقت در گزر سے کام نہیں  لیا جائے گا بلکہ اس پر غصہ کرنا واجب ہے۔(مراد یہ کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پردل میں  ناراضگی کا آنا ضروری ہے ،یہ ضروری نہیں  کہ گناہ کے مُرتکِب پر اظہار بھی کیا جائے ۔ اس کا دارومدار موقع محل کی مناسبت پر ہے۔)( صاوی، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۷، ۵/۱۸۷۸)
غصہ آنے پر معاف کر دینے کی فضیلت:
	غصہ آنے پر معاف کر دینے کی فضیلت بکثرت اَحادیث میں  بھی بیان ہوئی ہے ،چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص اپنے غصے کو نافذ کرنے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی جائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اختیار دے گا کہ حورِ عِین میں  سے جو حور وہ چاہے لے لے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب من کظم غیظاً، ۴/۳۲۵، الحدیث: ۴۷۷۷)
	اورحضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے غصہ ضبط کر کے ا س کا گھونٹ پیا یا جس نے مصیبت کے وقت صبر کا گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ کو اس گھونٹ سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں  اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے جس شخص کی آنکھ نے ا ٓنسو کا قطرہ گرا یا اور خون کا وہ قطرہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  گرا ا س سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی قطرہ پسند نہیں ۔( کتاب الجامع فی آخر المصنف، باب الغضب والغیظ وما جاء فیہ،۱۰/۱۹۵، الحدیث:  ۲۰۴۵۷)
غصہ آنے کا بنیادی سبب اور غصے کے 3علاجـ: