Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
77 - 764
کی بشارت سنائی گئی ہے۔کبیرہ گناہوں  سے بچنے والوں کے بارے میں  ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا‘‘(النساء:۳۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر کبیرہ گناہوں  سے بچتے رہو جن سے تمہیں  منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں  گے اور تمہیں  عزت کی جگہ داخل کریں  گے۔
	 اورحضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا،نماز قائم کی،زکوٰۃ ادا کی، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں  سے بچتا رہا تو ا س کے لئے جنت ہے۔ایک شخص نے عرض کی:( یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)، کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا،کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنا اور کفار سے جنگ کے دن میدان سے فرار ہونا۔( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۹/۱۳۲، الحدیث: ۲۳۵۶۵)
	اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے والوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ‘‘(النجم:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جو بڑے گناہوں  اور بے حیائیوں  سے بچتے ہیں  مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔
	اور حضرت سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مجھے ا س چیز کی ضمانت دے جو دونوں  ٹانگوں  کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) اور جو دونوں  جبڑوں  کے درمیان ہے (یعنی زبان)تو میں  اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔( بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفر والرّدۃ، باب فضل من ترک الفواحش، ۴/۳۳۷، الحدیث: ۶۸۰۷)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
	نوٹ:کبیرہ گناہوں  سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے سورۂ نساء ،آیت نمبر31کے تحت تفسیر ملاحظہ