Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
76 - 764
	اور اُخروی ثواب اور انعامات حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ‘‘(صافات:۶۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں  کو عمل کرنا چاہیے۔
	اللہ تعالیٰ ہمیں  اُخروی نعمتوں  کی اہمیت کو سمجھنے اور ان نعمتوں  کو حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں  کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائیوں  سے بچتے ہیں  اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور(ان کیلئے) جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اجتناب کرتے ہیں  اور جب انہیں  غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ: اور جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اجتناب کرتے ہیں ۔} یعنی اجر وثواب ان کیلئے بھی ہے جو کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اِجتناب کرتے ہیں ۔ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے کرنے پر دنیا میں  حد جاری ہو جیسے قتل، زنا اور چوری وغیرہ یا اس پر آخرت میں  عذاب کی وعید ہو جیسے غیبت،چغل خوری،خود پسندی اور ریا کاری وغیرہ ۔بے حیائی کے کاموں  سے وہ تمام کام اور باتیں مراد ہیں  جو معیوب اور قبیح ہوں ۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۷، ۸/۳۲۸، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴/۹۸، ملخصاً)
کبیرہ گناہوں  سے بچنے والے کا ثواب:
	اس آیت میں  کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے بچنے والوں  کے لئے قیامت کے دن اجر و ثواب