لئے ہوتی ہے۔
مصیبتیں آنے کا ایک سبب:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہے،اگر یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں ، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ (اے لوگو!) تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے ’’اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا، دن میں ان پر سورج کو طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی آواز تک نہ سناؤں گا۔( مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃرضی اللّٰہ عنہ، ۳/۲۸۱، الحدیث: ۸۷۱۶)
نیز انہیں چاہئے کہ ان پر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے جو مصیبتیں آ تی ہیں ان میں بے صبری اور شکوہ شکایت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ انہیں اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہوئے صبر و شکر سے کام لیں ،ترغیب کے لئے یہاں گناہوں کی وجہ سے آنے والی مصیبتوں سے متعلق اور ان مصیبتوں کے گناہوں کا کفارہ ہونے کے بارے میں 5اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ‘‘۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الشوری۔۔۔ الخ، ۵/۱۶۹، الحدیث: ۳۲۶۳)
(2)…حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’نیک کاموں سے عمر بڑھتی ہے،دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے اور بے شک آدمی اپنے کسی گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴/۳۶۹، الحدیث: ۴۰۲۲)
(3)…حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’لکڑی کی خراش لگنا،قدم کا ٹھوکر کھانا اور رگ کا پھڑکنا کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے