کمالات پر دلالت کرتے ہیں ۔ان نشانیوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ(۶)وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ(۷) تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘‘(سورۃ ق:۶۔۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں کہیں کوئی شگاف نہیں ۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں بڑے بڑے پہاڑ ڈالے اور اس میں ہر بارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔
مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو زمین پر چلنے والے انسان اور دیگر جاندار پیدا فرمائے ہیں یہ سب بھی اس کی قدرت اور وحدانیّت کی نشانیوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب اور جس وقت چاہے ان سب کو حشر کے لئے اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔( جلالین مع صاوی، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵/۱۸۷۴، ملخصاً)
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تووہ معاف فرمادیتا ہے۔
{وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی۔} اس آیت میں ان مُکَلَّف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثراُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ،اُن تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے