Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
69 - 764
وہ ا س سے کہیں  زیادہ ہوتے ہیں ۔پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’ وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ‘‘۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الصبر علی البلایا مطلقاً، ۲/۳۰۴، الجزء الثالث، الحدیث: ۸۶۶۶)
(4)… حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف پہنچتی ہے توا س کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا ا س کی ایک خطا مٹادیتا ہے۔( مسلم، کتاب البرّ والصلۃ والآداب، باب ثواب المؤمن فیما یصیبہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۹۱،  الحدیث: ۴۷(۲۵۷۲))
(5)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی بیماری ا س کے گناہوں  کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔( شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ ، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع و الامراض ۔۔۔ الخ ، ۷ / ۱۵۸ ، الحدیث: ۹۸۳۵)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنی اطاعت میں  مصروف رہنے اور گناہوں  سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،مشکلات اور مَصائب سے ہماری حفاظت فرمائے اور آنے والی مشکلات پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
تناسُخ کے قائلین کا رد:
	یاد رہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو کہ گناہوں  سے پاک ہیں  اور چھوٹے بچے جو کہ مُکَلَّف نہیں  ہیں ، ان سے اس آیت میں  خطاب نہیں  کیا گیا ،اوربعض گمراہ فرقے جو تناسُخ یعنی روح کے ایک بدن سے دوسرے بدن میں  جانے کے قائل ہیں  وہ اس آیت سے اِستدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں  کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ان کے گناہوں  کا نتیجہ ہو اور ابھی تک چونکہ اُن سے کوئی گناہ ہوا نہیں  تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو گی جس میں  گناہ ہوئے ہوں  گے۔ ان کا اس آیت سے اپنے باطل مذہب پر اِستدلال باطل ہے کیونکہ بچے اس کلام کے مُخاطَب ہی نہیں  جیسا کہ عام طور پر تمام خطابات عقلمند اور بالغ حضرات کو ہی ہوتے ہیں ۔( خزائن العرفان، الشوریٰ، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۸۹۵، ملخصاً)
	نیز بالفرض اگر ان لوگوں  کی بات کو ایک لمحے کے لئے تسلیم کرلیں  تو ان سے سوال ہے کہ بچوں  کو تکالیف تو