Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
459 - 764
رضویہ میں  بھی نقل فرمایا ہے ،ان میں  سے5روایات درج ذیل ہیں :
(1)…مشہور ولی حضرت ابو سعید خراز رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  مکہ مُعَظَّمَہ میں  تھا، بابِ بنی شیبہ پر ایک جوان مردہ پڑا پایا، جب میں  نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ مسکرایا اورکہا: اے ابو سعید!کیاتم نہیں  جانتے کہ اللہ  تعالیٰ کے پیارے زندہ ہیں  اگر چہ مرجائیں ، وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں  منتقل کئے جاتے ہیں ۔( شرح الصدور، باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ، تنبیہ، ص۲۰۷)
(2)…حضرت سیدی ابو علی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں  نے ایک فقیر کو قبر میں  اتارا، جب کفن کھولا توان کا سرخاک پر رکھ دیا کہ اللہ  تعالیٰ ان کی غُربَت پر رحم کرے۔ فقیر نے آنکھیں  کھول دیں  اور مجھ سے فرمایا:اے ابو علی!تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھا تا ہے۔میں  نے عرض کی:اے میرے سردار!کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ آپ نے فرمایا :میں  زندہ ہوں ، اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے، بیشک وہ وجاہت وعزت جو مجھے قیامت کے دن ملے گی اس سے میں  تیری مدد کروں  گا۔( شرح الصدور، باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ، تنبیہ، ص۲۰۸ملتقطاً)
(3)… حضرات ابراہیم بن شیبان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میرا ایک جوان مرید فوت ہوگیاتو مجھے سخت صدمہ ہوا، جب میں  اسے غسل دینے کے لئے بیٹھاتوگھبراہٹ میں  بائیں  طرف سے ابتداء کی،اس جوان مرید نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی دائیں  کروٹ میری طرف کر دی۔ میں  نے کہا:اے بیٹے!تو سچا ہے، مجھ سے غلطی ہوئی۔( شرح الصدور، باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ، تنبیہ، ص۲۰۸)
(4)… حضرت ابو یعقو ب سوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  نے ایک مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لِٹایا تو اس نے میرا انگوٹھا پکڑلیا۔ میں  نے اس سے کہا:اے بیٹے!میرا ہاتھ چھوڑ دے ،بے شک میں  جانتا ہوں  کہ تو مردہ نہیں ، یہ تو صرف مکان بدلنا ہے،اس لئے میرا ہاتھ چھوڑدے ۔( شرح الصدور، باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ، تنبیہ، ص۲۰۸)
(5)… حضرت ابو یعقو ب سوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مکہ مُعَظَّمَہ میں  ایک مرید نے مجھ سے کہا:اے میرے پیر ومرشد!میں  کل ظہر کے وقت مرجاؤں  گا، حضرت ،ایک اشرفی لیں ، آدھی میں  میرا دفن اور آدھی میں  میرا کفن کریں ۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا تو ،مذکورہ مرید نے آ کر طواف کیا، پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا اور انتقال کر گیا،جب