میں نے اسے قبر میں اتارا تو ا س نے آنکھیں کھول دیں ۔ میں نے کہا:کیا موت کے بعدزندگی ہے ؟ اس نے کہا:میں زندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کا ہر دوست زندہ ہے۔( شرح الصدور، باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ، تنبیہ، ص۲۰۸املتقطاً)
لوحِ محفوظ اللہ تعالیٰ کے علم کے لئے نہیں :
آیت نمبر3کے آخر میں بیان ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے،اس کتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے اور یاد رہے کہ لوحِ محفوظ اللہ تعالیٰ کے علم کے لئے نہیں ہے کیونکہ لوحِ محفوظ میں تو سب کچھ خود اللہ کے علم سے ہے لہٰذا لوحِ محفوظ خاص بندوں کو علم دینے کے لئے ہے، لہٰذاجن فرشتوں کے پاس یا جن انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائِ عظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے علم میں وہ کتاب ہے انہیں ان سب باتوں کی خبر ہے ۔
بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں ہیں جسے قرار نہیں ۔
{بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ: بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔} اس آیت میں حق سے مراد نبوت ہے جس کے ساتھ روشن معجزات ہیں یا اس سے مراد قرآنِ مجیدہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے صرف تعجب ہی نہیں کیابلکہ ا س سے کہیں زیادہ خطرناک کام بھی کیا کہ جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے سوچے سمجھے بغیر اسے جھٹلا دیا اور وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآنِ مجید سے متعلق ایک ایسی بات میں پڑے ہوئے ہیں جسے قرار نہیں اور وہ یہ ہے کہ کبھی نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شاعر ،کبھی جادو گر اور کبھی کاہِن کہتے ہیں ،اسی طرح قرآنِ پاک کو کبھی شعر،کبھی جادو اور کبھی کہانَت کہتے ہیں ،کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔( روح البیان، ق، تحت الآیۃ: ۵، ۹/۱۰۵-۱۰۶، مدارک، ق، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۱۶۰، جلالین، ق، تحت الآیۃ: ۵، ص۴۲۹، ملتقطاً)