نہیں ہوتی جوان کے ہم مرتبہ نہیں اور انبیاء کی زندگی سب سے اعلیٰ ہے اس لیے کہ وہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہے جیسی کہ دنیا میں تھی اور ہمیشہ رہے گی۔( شفاء السقام، الباب التاسع فی حیاۃ الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، الفصل الرابع، ص۴۳۱)
اور قاضی ثناءُاللہ صاحب پانی پتی تذکرۃُ الموتٰی میں لکھتے ہیں : اَولِیاءُاللہ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے جسم ہیں ۔ یعنی ان کی اَرواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اَجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا سایہ نہ تھا۔ ان کی ارواح زمین آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جاتی ہیں ، اس لیے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کو نہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابنِ ابی الدنیا نے مالک سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں ۔ مومنین سے مراد کاملین ہیں ، حق تعالیٰ ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے اور ذکر کرتے ہیں اور قرآنِ کریم پڑھتے ہیں ۔( تذکرۃ الموتیٰ والقبور اردو، ص۷۵)
اور شیخُ الہند محدّثِ دہلوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس دارِفانی سے دارِ بقا کی طرف ُکوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں ، انھیں رزق دیا جاتاہے، وہ خوش حال ہیں ، اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں ۔( اشعۃ اللمعات، کتاب الجہاد، باب حکم الاسرائ، ۳/۴۲۳-۴۲۴)
اور علامہ علی قاری شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں : اَولِیائُ اللہ کی دونوں حالتوں (حیات ومَمات) میں اصلاً فرق نہیں ، اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، الفصل الثالث، ۳/۴۵۹-۴۶۰، تحت الحدیث: ۱۳۶۶)۔( فتاوی رضویہ، ۹/۴۳۱-۴۳۳)
انتقال کے بعد اولیاءِکرام کی زندگی کے5 واقعات:
علامہ جلا ل الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شرح الصُّدُور میں انتقال کے بعد اولیائے کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے بارے میں چند مُستَنَد رِوایات لکھی ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انہیں فتاویٰ