Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
457 - 764
انسان کا جسم مرنے کے بعد مٹی ہو جائے گا:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی ہو جائے گا،اس سلسلے میں  یاد رہے کہ انسان کبھی خاک نہیں  ہوتا بلکہ ا س کا بدن خاک ہو جاتا ہے اور وہ بھی سارا بدن نہیں  ہوتا بلکہ اس کے کچھ باریک اصلی اجزاء جنہیں  ’’عُجُبُ الذَّنْب‘‘ کہتے ہیں  ،وہ جلتے اور گلتے نہیں  بلکہ ہمیشہ باقی رہتے ہیں  اور قیامت کے دن انہی اجزا پر جسم کو دوبارہ بنایا جائے گا ،جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’انسا ن کے جسم میں  ایک ایسی ہڈی ہے جسے مٹی کبھی نہیں  کھا سکے گی اور قیامت کے دن اسی پر (بدن کی) ترکیب کی جائے گی ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ ہڈی کون سی ہے؟ ارشاد فرمایا’’عُجُبُ الذَّنْب‘‘۔(مسلم، کتاب الفتن واشراط السّاعۃ، باب مابین النّفختین، ص۱۵۸۱، الحدیث: ۱۴۳(۲۹۵۵))
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ـ:انسان کبھی خاک نہیں  ہوتا بدن خاک ہو جاتا ہے، اور وہ بھی کُل نہیں  ، کچھ اجزائے اصلیہ دقیقہ جن کو عُجُبُ الذَّنْب کہتے ہیں ، وہ نہ جلتے ہیں  نہ گلتے ہیں  ہمیشہ باقی رہتے ہیں  ، اُنھیں  پر روز ِقیامت ترکیب ِجسم ہوگی۔( فتاوی رضویہ، ۹/۶۵۸)
 انبیاء،شہداء اوراولیاء اپنے اَجسام اور کفنوں  کے ساتھ زندہ ہیں :
	یاد رہے کہ بعض عام مومنین اور دیگر انتقال کر جانے والوں  کے اَجسام قبر میں  اگرچہ سلامت نہیں  رہتے البتہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، شہداء اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ کے مبارک جسم قبروں  میں  سلامت رہتے ہیں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اہلِسنَّت کے نزدیک انبیاء وشہداء عَلَیْہِمُ التَّحِیَّۃُ وَ الثَّنَاء اپنے اَبدانِ شریفہ سے زندہ ہیں  بلکہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ابدانِ لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں  کہ وہ ان کو کھائے، اسی طرح شہداء و اولیاء عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَ الثَّنَاء کے اَبدان وکفن بھی قبور میں  صحیح و سلامت رہتے ہیں  وہ حضرات روزی ورزق دئیے جاتے ہیں ،
	علامہ سبکی شفاء السقام میں  لکھتے ہیں :شہداء کی زندگی بہت اعلیٰ ہے، زندگی اور رزق کی یہ قسم ان لوگوں  کو حاصل