ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًاۚ-ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ(۳)قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْۚ-وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جئیں گے یہ پلٹنا دُور ہے۔ ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے (تو اس کے بعد پھر زندہ کئے جائیں گے) یہ پلٹنا دور ہے۔ ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے۔
{ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر بھی تعجب کیا اور کہا: مرنے کے بعدجب ہمارے جسم کے اَجزاء زمین میں بکھر جائیں گے اور ہم بوسیدہ ہو کر مٹی ہو جائیں گے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ جیسا ابھی ہمارا جسم ہے اور جس طرح ابھی ہم زندہ ہیں دوبارہ اسی طرح ہمارا جسم بن جائے اور ہم پھر سے زندہ ہو جائیں ،اس کا واقع ہونا عقلی طور پربعید ہے اور ایسا ہوتا کبھی دیکھا نہیں گیا۔کفارِ مکہ کی اس بات کا رد کرتے اور انہیں جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’اُن کے جسم کے جو حصے، گوشت، خون اور ہڈیاں وغیرہ زمین کھا جاتی ہے ان میں سے کوئی چیز ہم سے چھپی نہیں بلکہ ہم ان کے بدن کے ہر حصے کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ بکھر کر کہا ں گیا اور کس چیز میں مل گیا، اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب لوحِ محفوظ ہے جس میں ان کے اَسمائ، اَعداد اور جو کچھ ان کے جسم میں سے زمین نے کھایا سب درج،لکھا ہو ااور محفوظ ہے۔جب ہمارے علم کا یہ حال ہے اور ہم انہیں ویسے ہی زندہ کرنے پر قادر بھی ہیں جیسے پہلے تھے تو پھر انہیں پہلے کی طرح دوبارہ زندہ کر دیا جانا عقل سے کیسے دور ہے۔( ابن کثیر ، ق ، تحت الآیۃ : ۳-۴، ۷/۳۶۹ ، ابو سعود ، ق، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۵/۶۱۷، خازن، ق، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴/۱۷۴-۱۷۵، ملتقطاً)