Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
447 - 764
تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ،پھر اس کی وفات ہوگئی اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی تدفین میں  تشریف لائے، اس کے بارے میں  لوگوں  نے کچھ کہا تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔( مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۱۵۶، جلالین، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۴۲۸، ملتقطاً)
عزت اور فضیلت کا مدار پرہیزگاری ہے :
	اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عزت و فضیلت کا مدار نسب نہیں  بلکہ پرہیزگاری ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نسب پر فخر کرنے سے بچے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اسے عزت و فضیلت نصیب ہو، ترغیب کے لئے یہاں  اس سے متعلق3اَحادیث ملاحظہ ہوں  
(1)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  :فتحِ مکہ کے دن حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلِیَّت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کر دیاہے اور اب صرف دو قسم کے لوگ ہیں  (1)نیک اور متقی شخص جو کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  معزز ہے۔ (2)گناہگار اور بد بخت آدمی ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ذلیل و خوار ہے ۔تمام لوگ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہیں  اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیاہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو!ہم نے تمہیں  ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں  قومیں  اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں  پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں  تم میں  زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں  زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات، ۵/۱۷۹، الحدیث: ۳۲۸۱)
(2)…حضرت عداء بن خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :میں  حجۃ الوداع کے دن نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے منبر ِاقدس کے نیچے بیٹھا ہو اتھا،آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ،پھر فرمایا’’ بے شک اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو! ہم نے تمہیں  ایک مرد اور