وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ‘‘
ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے۔
تو کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے ،کسی کا لے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے بلکہ فضیلت صرف تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے (تو جو مُتَّقی اور پرہیز گار ہے وہ افضل ہے)( معجم الکبیر، عداء بن خالد بن ہوذہ العامری، ۱۸/۱۲، الحدیث: ۱۶)
(3)…حضر ت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب قیامت کادن ہوگاتوبندوں کواللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑاکیاجائے گااس حال میں کہ وہ غیرمختون ہوں گے اوران کی رنگت سیاہ ہوگی،تواللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا: ’’اے میرے بندو!میں نے تمہیں حکم دیا اورتم نے میرے حکم کو ضائع کردیااورتم نے اپنے نسبوں کوبلندکیااورانہی کے سبب ایک دوسرے پرفخرکرتے رہے ،آج کے دن میں تمہارے نسبوں کوحقیروذلیل قراردے رہاہوں ،میں ہی غالب حکمران ہوں ،کہاں ہیں مُتَّقی لوگ؟کہاں ہیں متقی لوگ؟ بیشک اللہ تعالیٰ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔( تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ علیّ، حرف الالف من آباء العلیین، ۶۱۷۲-علیّ بن ابراہیم العمری القزوینی، ۱۱/۳۳۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں نسبی فخرو تکبر سے بچائے اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاؕ-قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: گنوار بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی