کیونکہ آپ کو معلوم ہوگیا تھاکہ تکبر کو صرف عاجزی کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلے میں مروی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی موجودگی میں دو آدمیوں نے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار کیا، ایک نے کہا :میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں تم کون ہو؟ تمہاری تو ماں ہی نہیں ۔ اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے دو آدمیوں نے ایک دوسرے پر فخر کیا، ان میں سے ایک نے کہا :میں فلاں کا بیٹافلاں ہوں ، اس طرح وہ نو پُشتیں شمار کرگیا اور کہا:تیری تو ماں ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ جس نے فخر کا اظہار کیا ہے اس سے فرمادیجئے : وہ نو کی نوپشتیں جہنم میں جائیں گی اور تم ان کے ساتھ دسویں ہوگے۔( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبد الرّحمن بن ابی لیلی... الخ، ۸/۳۴، الحدیث: ۲۱۲۳۶)
نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایالوگوں کو اپنے آبائو اَجداد پر فخر کرنا چھوڑدینا چاہیے وہ جہنم میں کوئلہ بن گئے یا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں جو اپنے ناک سے گندگی کو دھکیلتے ہیں (ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی التّفاخر بالاحساب، ۴/۴۲۷، الحدیث: ۵۱۱۶، باختلاف بعض الالفاظ)۔( احیاء علوم الدین، کتاب ذمّ الکبر والعجب، بیان ما بہ التکبّر، ۳/۴۳۱-۴۳۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے ،اٰمین۔()
{اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔} آیت کے اس حصے میں وہ چیز بیان فرمائی جارہی ہے جو انسان کے لئے شرافت وفضیلت کا سبب ہے اور جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت حاصل ہوتی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں جاننے والا اور تمہارے باطن سے خبردار ہے۔ شانِ نزول: حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ کے بازار میں تشریف لے گئے ، وہاں ملاحظہ فرمایا کہ ایک حبشی غلام یہ کہہ رہا تھا: جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِقتداء میں پانچوں نمازیں ادا کرنے سے منع نہ کرے۔ اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ