بڑا اَمر ہے کیونکہ مال ،حسن اور بزرگی کی وجہ سے کیا جانے والا تکبر ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ ان چیزوں کے ختم ہونے پر تکبر بھی ختم ہو جاتاہے جبکہ نسب کی وجہ سے کیا جانے والا تکبر ختم نہیں ہوتا، اسی لئے یہاں بطورِ خاص اسے ذکر کیا گیا۔(تفسیرکبیر، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰/۱۱۳، ملخصاً)
نسب کے ذریعے فخر و تکبر کرنے کی مذمت :
فخر وتکبُّر کے اَسباب میں سے ایک اہم سبب اپنے نسب کے ذریعے دوسروں پر تکبر کرنا ہے ،اس کے بارے میں امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جس آدمی کا نسب اچھا ہو وہ دوسرے نسب والوں کو حقیر جانتا ہے اور بعض لوگ حسب ونسب کے ذریعے اس طرح تکبر کرتے ہیں کہ گویا دوسرے لوگ ان کی مِلکِیَّت میں اوران کے غلام ہیں ،وہ اِن سے میل جول کرنے اور ان کے پاس بیٹھنے سے نفرت کرتے ہیں اور ا س کا نتیجہ ان کی زبان پر یوں آتا ہے کہ تکبر کرتے ہوئے دوسروں کو گھٹیا قسم کے الفاظ سے پکارتے ہوئے کہتے ہیں : تم کون ہو؟ تمہارا باپ کون ہے؟ میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں ، تمہیں مجھ سے بات کرنے یا میری طرف دیکھنے کا کیا حق ہے؟ تو مجھ جیسے لوگوں سے بات کرتا ہے اور مجھ سے اس قسم کی گفتگو کرتا ہے؟(وغیرہ)
یہ ایک ایسی پوشیدہ رگ ہے کہ کوئی بھی نسب والا اس سے خالی نہیں ہوتا اگرچہ وہ نیک اوربا عمل ہو، لیکن بعض اوقات حالت اِعتدال پر ہونے کی صورت میں یہ بات ظاہر نہیں ہوتی اور جب اس پر غصے کا غلبہ ہو تو وہ اس کے نورِ بصیرت کو بجھادیتا ہے اور اس قسم کی گفتگو ا س کی زبان پر آ جاتی ہے۔
حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی موجودگی میں ایک شخص سے میری تکرار ہوگئی تو میں نے کہا:اے کالی عورت کے بیٹے !تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اے ابو ذر!صاع پورا نہیں بھراجاتا، سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے پرکوئی فضیلت نہیں ۔ حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں لیٹ گیا اور اس شخص سے کہا : اٹھو اور میرے رخسار کو پامال کردو ۔
تو دیکھئے کس طرح نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں تنبیہ فرمائی جب انہوں نے سفید خاتون کا بیٹاہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو افضل سمجھا اور یہ بات خطا اور نادانی ہے،اور دیکھئے کہ انہوں نے کس طرح توبہ کی اور اپنے آپ سے تکبر کے درخت کو اس شخص کے تلوے کے ذریعے جڑسے اکھاڑ پھینکا جس کے مقابلے میں تکبر کیا گیا تھا