نوٹ:غیبت سے متعلق مزید شرعی مسائل جاننے کیلئے،بہار شریعت جلد3ص532تا539کا مطالعہ فرمائیں ۔()
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى: اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا۔} ارشاد فرمایا :اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورایک عورت حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا کیا اورجب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) اور ہم نے تمہیں مختلف قومیں ،قبیلے اور خاندان بنایاتاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو اور ایک شخص دوسرے کا نسب جانے اوراس طرح کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کومنسوب نہ کرے، نہ یہ کہ اپنے نسب پر فخر کرنے لگ جائے اور دوسروں کی تحقیر کرنا شروع کر دے۔( مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۱۵۶)
یاد رہے کہ دنیا میں وہ اُمور اگرچہ کثیر ہیں کہ جن کی وجہ سے فخرو تکبر کیا جاتا ہے لیکن نسب ان میں سب سے