Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
443 - 764
(1)…جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہوگئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں  نے تمھاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کردو، اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے بریٔ الذمہ ہوگا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو توبہ اور ندامت کافی ہے۔ 
(2)…جس کی غیبت کی ہے اسے خبر نہ ہوئی اور اس نے توبہ کرلی اس کے بعد اسے خبر ملی کہ فلاں  نے میری غیبت کی ہے آیا اس کی توبہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اس میں  علما کے دوقول ہیں  ایک قول یہ ہے کہ وہ توبہ صحیح ہے اللہ تعالیٰ دونوں  کی مغفرت فرمادے گا، جس نے غیبت کی اس کی مغفرت توبہ سے ہوئی اور جس کی غیبت کی گئی اس کو جو تکلیف پہنچی اور اس نے درگزر کیا، اس وجہ سے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ 
	اور بعض علما یہ فرماتے ہیں  کہ اس کی توبہ مُعَلَّق رہے گی اگر وہ شخص جس کی غیبت ہوئی خبر پہنچنے سے پہلے ہی مرگیا تو توبہ صحیح ہے اور توبہ کے بعد اسے خبر پہنچ گئی تو صحیح نہیں ، جب تک اس سے معاف نہ کرائے۔ بہتان کی صورت میں  توبہ کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضرور ہے کہ میں  نے جھوٹ کہا تھا جو فلاں  پر میں  نے بہتان باندھا تھا۔ 
(3)…معافی مانگنے میں  یہ ضرور ہے کہ غیبت کے مقابل میں  اس کی ثنائِ حسن (اچھی تعریف) کرے اور اس کے ساتھ اظہارِ محبت کرے کہ اس کے دل سے یہ بات جاتی رہے اور فرض کرو اس نے زبان سے معاف کردیا مگر اس کا دل اس سے خوش نہ ہوا تو اس کا معافی مانگنا اور اظہارِ محبت کرنا غیبت کی برائی کے مقابل ہوجائے گا اور آخرت میں  مُواخَذہ نہ ہوگا۔ 
(4)…اس نے معافی مانگی اور اس نے معاف کردیا مگر اس نے سچائی اور خلوصِ دل سے معافی نہیں  مانگی تھی محض ظاہری اور نمائشی یہ معافی تھی، تو ہوسکتا ہے کہ آخرت میں  مُؤاخذہ ہو، کیونکہ اس نے یہ سمجھ کر معاف کیا تھا کہ یہ خلوص کے ساتھ معافی مانگ رہا ہے۔
(5)…امام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ یہ فرماتے ہیں ، کہ جس کی غیبت کی وہ مرگیا یا کہیں  غائب ہوگیا اس سے کیونکر معافی مانگے یہ معاملہ بہت دشوار ہوگیا، اس کو چاہیے کہ نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں  غیبت کے بدلے میں  اسے دے دی جائیں ، جب بھی اس کے پاس نیکیاں  باقی رہ جائیں ۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳/۵۳۸-۵۳۹)