کی نقل اتاری جائے یہ بھی غیبت ہے، بلکہ زبان سے کہہ دینے سے یہ زیادہ برا ہے کیونکہ نقل کرنے میں پوری تصویر کشی اور بات کو سمجھانا پایا جاتا ہے (جب) کہ کہنے میں وہ بات نہیں ہوتی۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳/۵۳۶)
(3)…جس طرح زندہ آدمی کی غیبت ہوسکتی ہے مرے ہوئے مسلمان کو برائی کے ساتھ یاد کرنا بھی غیبت ہے، جبکہ وہ صورتیں نہ ہوں جن میں عیوب کا بیان کرنا غیبت میں داخل نہیں ۔ مسلم کی غیبت جس طرح حرام ہے کافر ذمی کی بھی ناجائز ہے کہ ان کے حقوق بھی مسلم کی طرح ہیں (جبکہ) کافر حربی کی برائی کرنا غیبت نہیں ۔
(4)…کسی کی برائی اس کے سامنے کرنا اگر غیبت میں داخل نہ بھی ہو جبکہ غیبت میں پیٹھ پیچھے برائی کرنا معتبر ہو مگر یہ اس سے بڑھ کر حرام ہے کیونکہ غیبت میں جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایذاء ِمسلم ہے وہ یہاں بدرجہ اَولی پائی جاتی ہے غیبت میں تو یہ اِحتمال ہے کہ اسے اطلاع ملے یا نہ ملے اگر اسے اطلاع نہ ہوئی تو ایذا بھی نہ ہوئی، مگر احتمالِ ایذا کو یہاں ایذا قرار دے کر شرعِ مُطَہَّر نے حرام کیا اور مونھ پر اس کی مذمت کرنا تو حقیقۃً ایذا ہے پھر یہ کیوں حرام نہ ہو۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :بعض لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ تم فلاں کی غیبت کیوں کرتے ہو، وہ نہایت دلیری کے ساتھ یہ کہتے ہیں مجھے اس کا ڈر اپڑا ہے چلو میں اس کے مونھ پر یہ باتیں کہہ دوں گا، ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت و حرام ہے اور مونھ پر کہو گے تو یہ دوسرا حرام ہوگا، اگر تم اس کے سامنے کہنے کی جرأت رکھتے ہو تو اس کی وجہ سے غیبت حلال نہیں ہوگی۔
(5)…جس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے اسے لازم ہے کہ زبان سے انکار کردے مثلاً کہدے کہ میرے سامنے اس کی برائی نہ کرو۔ اگر زبان سے انکار کرنے میں اس کو خوف و اندیشہ ہے تو دل سے اسے برا جانے اور اگر ممکن ہو تو یہ شخص جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے میں سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، غیبت کا سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳/۵۳۷-۵۳۸)
غیبت سے توبہ اورمعافی سے متعلق5شرعی مسائلـ:
یہاں غیبت سے توبہ اور معافی سے متعلق 5شرعی مسائل بھی ملاحظہ ہوں