جس نے دنیامیں اپنے بھائی کاگوشت کھایاا س کے پاس قیامت کے دن ا س کے بھائی کاگوشت لایاجائے گااوراس سے کہا جائے گاتم جس طرح دنیامیں اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھاتے تھے اب زندہ کاگوشت کھائووہ چیخ مارتاہوااورمنہ بگاڑتا ہوا کھائے گا۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۴۵۰، الحدیث: ۱۶۵۶)
سرِ دست یہ4اَحادیث ذکر کی ہیں ،ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ انہیں غور سے پڑھے اور غیبت سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے، فی زمانہ اس حرام سے بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آج کل مسلمانوں میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے اور وہ اس سے بچنے کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے اور ان کی بہت کم مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جو چغلی اور غیبت سے محفوظ ہوں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت جیسی خطرناک باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے ،اٰمین۔
غیبت کی تعریف اور اس سے متعلق 5شرعی مسائل:
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳/۵۳۲)
غیبت سے متعلق 5شرعی مسائل درج ذیل ہیں :
(1)…غیبت جس طرح زبان سے ہوتی ہے (اسی طرح) فعل سے بھی ہوتی ہے، صراحت کے ساتھ برائی کی جائے یا تعریض و کنایہ کے ساتھ ہو سب صورتیں حرام ہیں ، برائی کو جس نَوعِیَّت سے سمجھا ئے گا سب غیبت میں داخل ہے۔ تعریض کی یہ صورت ہے کہ کسی کے ذکر کرتے وقت یہ کہا کہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں ایسا نہیں ‘‘ جس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ ایسا ہے۔ کسی کی برائی لکھ دی یہ بھی غیبت ہے ،سر وغیرہ کی حرکت بھی غیبت ہوسکتی ہے، مثلاً کسی کی خوبیوں کا تذکرہ تھا اس نے سر کے اشارہ سے یہ بتانا چاہا کہ اس میں جو کچھ برائیاں ہیں ان سے تم واقف نہیں ، ہونٹوں اور آنکھوں اور بھوؤں اور زبان یا ہاتھ کے اشارہ سے بھی غیبت ہوسکتی ہے۔
(2)…ایک صورت غیبت کی نقل ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل کرے اور لنگڑا کر چلے، یا جس چال سے کوئی چلتا ہے اس