غیبت اور ا س کی مذمت سے متعلق4اَحادیث:
اس آیت میں غیبت کرنے سے منع کیا گیا اور ایک مثال کے ذریعے اس کی شَناعَت اور برائی کو بیان فرمایاگیا ہے ، کثیر اَحادیث میں بھی اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ،یہاں ان میں سے 4اَحادیث ملاحظہ ہوں
(1)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیاتم جانتے ہوکہ غیبت کیاچیزہے ؟ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی :اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ارشادفرمایا’’تم اپنے بھائی کاوہ عیب بیان کروجس کے ذکرکووہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگرمیرے بھائی میں وہ عیب موجود ہوجسے میں بیان کرتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا:تم جوعیب بیان کررہے ہو اگروہ اس میں موجود ہوجب ہی تووہ غیبت ہے اوراگراس میں وہ عیب نہیں ہے توپھروہ بہتان ہے۔( مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب تحریم الغیبۃ، ص۱۳۹۷، الحدیث: ۷۰(۲۵۸۹))
(2)… حضرت ابوسعید اور حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’ غیبت زِنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے۔ لوگوں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے؟ارشاد فرمایا ’’مرد زِنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبو ل فرماتا ہے اور غیبت کرنے والے کی تب تک مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے۔( شعب الایمان، الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فیما ورد... الخ، ۵/۳۰۶، الحدیث: ۶۷۴۱)
(3)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب مجھے معراج کرائی گئی تومیں ایسے لوگوں کے پاس سے گزراجن کے ناخن پیتل کے تھے اوروہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں اورسینوں کونوچ رہے تھے ،میں نے پوچھا:اے جبریل! عَلَیْہِ السَّلَام، یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں نے کہا: یہ وہ افراد ہیں جولوگوں کاگوشت کھاتے اوران کی عزتوں کوپامال کرتے تھے ۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، ۴/۳۵۳، الحدیث: ۴۸۷۸)
(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: