Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
411 - 764
سے پہلے ان سے کوئی ایسا کام سرزَد نہیں  ہوا جس کی بنا پر انہیں  فاسق کہا جا سکے اور) اس واقعے میں  بھی انہوں  نے بنو مصطلق کی طرف جو بات منسوب کی تھی وہ اپنے گمان کے مطابق صحیح سمجھ کر کی تھی اگرچہ حقیقت میں  وہ غلط تھی اور یہ ایسی چیز نہیں  جس کی بنا پر کسی کو فاسق قرار دیا جا سکے ۔
معاشرے کو امن کاگہوارہ بنانے میں  اسلام کا کردار:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین ِاسلام ان کاموں  سے روکتا ہے جو معاشرتی امن کی راہ میں  رکاوٹ بنتے ہیں  اور وہ کام کرنے کا حکم دیتا ہے جن سے معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے ،جیسے مذکورہ بالا آیت میں  بیان کئے گئے اصول کواگرہم آج کل کے دَورمیں  پیش ِنظر رکھیں  توہمارامعاشرہ امن کاگہوارہ بن سکتاہے کیونکہ ہمارے ہاں  لڑائی جھگڑے اورفسادات ہوتے ہی اسی وجہ سے ہیں  کہ جب کسی کوکوئی اطلاع دی جاتی ہے تووہ اس کی تصدیق نہیں  کرتابلکہ فوراًغصہ میں  آجاتاہے اوروہ کام کربیٹھتاہے جس کے بعد ساری زندگی پریشان رہتاہے ۔اسی طرح ہمارے ہاں  خاندانی طورپرجوجھگڑے ہوتے ہیں  وہ اسی نَوعیَّت کے ہوتے ہیں  ۔چاہے وہ ساس بہوکامعاملہ ہویاشوہروبیوی کاکہ تصدیق نہیں  کی جاتی اورلڑائیاں  شروع کردی جاتی ہیں  ۔
آیت ’’اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں :
(1)… ایک شخص اگر عادل ہو تو اس کی خبر معتبر ہے۔
(2)… حاکم یک طرفہ بیان پر فیصلہ نہ کرے بلکہ فریقَین کا بیان سن کر ہی کوئی فیصلہ کرے۔
(3)… غیبت کرنے والے اور چغل خور کی بات ہر گز قبول نہ کی جائے۔
(4)… کسی کام میں  جلدی نہ کی جائے ورنہ بعد میں  پچھتانا پڑسکتا ہے۔
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِؕ-لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ