حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بھیجے ہوئے ہیں ، بہت سے لوگ ان کی تعظیم کے لئے ان کا استقبال کرنے آئے ، لیکن حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے گمان کیا کہ یہ پرانی دشمنی کی وجہ سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیں ، یہ خیال کرکے حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ واپس ہوگئے اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے (اپنے گمان کے مطابق) عرض کردیا کہ حضور! ان لوگوں نے صدقہ دینے سے منع کردیا اور مجھے قتل کرنے کے درپے ہوگئے ہیں ۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حالات کی تحقیق کے لئے بھیجا،حضرت خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ان لوگوں نے صدقات پیش کردیئے۔ حضرت خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ یہ صدقات لے کر خدمت ِاَقدس میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کیا، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔(خازن،الحجرات،تحت الآیۃ:۶،۴/۱۶۶-۱۶۷، مدارک،الحجرات،تحت الآیۃ:۶،ص۱۱۵۲، روح البیان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۶، ۹/۷۰-۷۱، ملتقطاً)
حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ صحابی ہیں اور صحابہ میں کوئی فاسق نہیں :
یاد رہے کہ اس آیت میں بطورِ خاص حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو فاسق نہیں کہا گیا بلکہ ایک اسلامی قانون بیان کیا گیا ہے لہٰذا اس آیت کی بنا پر انہیں فاسق نہیں کہہ سکتے، جیسا کہ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت کے نزول کا سبب اگرچہ حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ہے لیکن فاسق سے مرادبطورِ خاص حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نہیں ہیں کیونکہ آپ فاسق نہیں بلکہ عظیم صحابی ہیں ۔( صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۶، ۵/۱۹۹۰-۱۹۹۱، ملخصاً)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (اِس آیت کے پیش ِنظر کسی شخص کا) حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ پر فاسق کا اطلاق کرنابڑی خطا ہے کیونکہ انہوں نے وہم اور گمان کیا جس میں خطا کر گئے اور خطا کرنے والے کو فاسق نہیں کہا جاتا۔( تفسیرکبیر، الحجرات، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۹۸)
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب اگرچہ حضرت ولید بن عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ہی ہو،لیکن یہ نہیں ہے کہ آیت میں بطورِ خاص آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہی فاسق کہا گیا ہے ، ا س کی وجہ یہ ہے کہ (اس واقعے میں یا اس