Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
409 - 764
(1)…اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار شریف کے آداب اللہ تعالیٰ نے بنائے اور اسی نے سکھائے ہیں ، یاد رہے کہ یہ آداب صرف انسانوں  پر ہی جاری نہیں  بلکہ جنوں ،انسانوں  اور فرشتوں  سب پر جاری ہیں  اور یہ آداب کسی خاص وقت تک کے لئے نہیں  بلکہ ہمیشہ کے لئے ہیں ۔
(2)… اکابرین کی بارگاہ کا ادب کرنابندے کو بلند درجات تک پہنچاتا ہے اور دنیا وآخرت کی سعادتوں  سے نوازتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں  کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں  کسی قوم کوانجانے میں  تکلیف نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو۔} ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے جس میں  کسی کی شکایت ہو تو صرف اس کی بات پر اعتماد نہ کرو بلکہ تحقیق کرلو کہ وہ صحیح ہے یا نہیں  کیونکہ جو فسق سے نہیں  بچا وہ جھوٹ سے بھی نہ بچے گا تاکہ کہیں  کسی قوم کوانجانے میں  تکلیف نہ دے بیٹھو پھر ان کی براء ت ظاہر ہونے کی صورت میں  تمہیں  اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔
	مفسرین نے اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ولید بن عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو بنی مُصطلق سے صدقات وصول کرنے بھیجا ،زمانۂ جاہلیَّت میں  اِن کے اور اُن کے درمیان دشمنی تھی، جب حضرت ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اُن کے علاقے کے قریب پہنچے اور اُن لوگوں  کوخبر ہوئی تواس خیال سے کہ