Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
407 - 764
{اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں ۔} شانِ نزول: بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  پہنچے ،اس وقت حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں  نے حُجروں  کے باہر سے حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارنا شروع کر دیا اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہر تشریف لے آئے، ان لوگوں  کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جلالت ِشان کو بیان فرمایا گیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ اقدس میں  اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی ہے۔( مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۱۵۱، ملخصاً)
وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں  تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں  تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے۔} اس آیت میں  ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوپکارنے کی بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا یہاں  تک کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود ہی مُقَدّس حجرے سے باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے اوراس کے بعدیہ لوگ اپنی عرض پیش کرتے۔ اگر وہ اپنے اوپر لازم اس ادب کو بجالاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزَد ہوئی ہے اگر وہ توبہ کریں  تو اللہ تعالیٰ اُنہیں  بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۱۶۶، روح البیان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۵، ۹/۶۸، ملخصاً)