اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آواز پر اپنی آواز بلند نہیں کریں گے ،ان کے بارے میں حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو اپنے سامنے چلتا ہوا دیکھتے تھے اور جب یمامہ کے مقام پر مُسیلمہ سے جنگ ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ شکست کھا گیا ہے ،یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ان لوگوں پر افسوس ہے ،پھر حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے غلام حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا:ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے اس طرح جنگ نہیں کیا کرتے تھے۔پھر یہ دونوں ڈٹ گئے اور لڑائی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں خواب میں دیکھا،انہوں نے فرمایا:فلاں شخص میری ذرع اتار کر لے گیا ہے اور وہ لشکر کے کونے میں گھوڑے کے پاس پتھر کی ہنڈیا کے نیچے رکھی ہوئی ہے ،لہٰذ آپ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جائیں اور انہیں اس کی خبر دیں تاکہ وہ میری ذرع واپس لے سکیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جائیں اور ان سے عرض کریں :مجھ پر قرض ہے ، تاکہ وہ میرا قرض ادا کردیں اور میرا فلاں غلام آزاد ہے۔چنانچہ ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس کی خبر دی تو انہوں نے ذرع اور گھوڑے کو اسی طرح پایاجیسے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان فرمایا تھا، انہوں نے ذرع لے لی اور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس خواب کی خبر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیت کو نافذ کر دیا۔ حضرت مالک بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : مجھے اس وصیت کے علاوہ کوئی ایسی وصیت معلوم نہیں جو کسی کی وفات کے بعد نافذ کی گئی ہو۔( صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۳، ۵/۱۹۸۸)
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔