ابوبکر صدیق ،حضرت عمر فاروق اورکچھ دیگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بہت احتیاط لازم کر لی اورسرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِاَقدس میں بہت ہی پَست آواز سے عرض معروض کرتے (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے)، ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا’’بیشک جولوگ ادب اور تعظیم کے طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اپنی آوازیں پَست رکھتے ہیں ،یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے پَرَکھ لیا (اور ان میں موجود پرہیز گاری کو ظاہر فرما دیا) ہے، ان کے لیے آخرت میں بخشش اور بڑا ثواب ہے۔( جلالین مع صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۳، ۵/۱۹۸۷-۱۹۸۸)
آیت ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:
اس آیت سے 5 باتیں معلوم ہوئیں
(1)… تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب دل کا تقویٰ ہے۔
(2)…اللہ تعالیٰ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دل تقویٰ کے لئے پَرَکھ لئے ہیں تو جو انہیں مَعَاذَاللہ فاسق مانے وہ اس آیت کا مُنکر ہے۔
(3)…صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ انتہائی پرہیز گار اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ جس نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیا اور آپ کی اس قدر تعظیم کی کہ آپ کے سامنے اس ڈر سے اپنی آواز تک بلند نہ کی کہ کہیں بلند آواز سے بولنے کی بنا پر اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں تو ا س کے دل میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کا خوف کتنا زیادہ ہو گا۔
(4)… حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بخشش کا اعلان فرمادیا ہے ۔
(5)… ان دونوں بزرگوں کا اجر وثواب ہمارے وہم وخیال سے بالا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم فرمایا ہے۔
حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان:
حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی معذوری کے باوجود اپنے اوپر یہ لازم کر لیا تھا کہ وہ کبھی نبی کریم صَلَّی