Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
404 - 764
رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ہے ۔( شان حبیب الرحمن،ص۲۲۵)
(2)… بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  ایسی آواز بلند کرنا منع ہے جو آپ کی تعظیم وتوقیر کے برخلاف ہے اور بے ادبی کے زُمرے میں  داخل ہے اور اگر اس سے بے ادبی اور توہین کی نیت ہو تو یہ کفر ہے، لہٰذا جنگ کے دوران یا اَشعار کی صورت میں  کفار کی مذمت بیان کرنے کے دوران صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی جو آوازیں  بلند ہوئیں  وہ اس آیت میں  داخل نہیں  کیونکہ یہ تعظیم و توقیر کے خلاف نہ تھیں  بلکہ بعض مقامات پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت سے تھیں  ،اسی طرح اذان کے وقت جو آواز بلند ہوئی وہ بھی اس میں  داخل نہیں  کیونکہ اذان ہوتی ہی بلند آواز سے ہے۔
(3)…علماء ِکرام کی مجالس میں  بھی آواز بلند کرنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں۔(قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲، ۸/۲۲۰، الجزء السادس عشر)
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو اپنی آوازیں  پست کرتے ہیں  رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں  جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں  یہی وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں  کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں ۔} شانِ نزول:جب یہ آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت