Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
403 - 764
اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘(حجرات:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
	اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں  میں  برابر ہے (اس لئے میں  یہاں  کسی شخص کوآواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں  کر سکتا) ۔( الشفا، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واعلم ان حرمۃ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ص۴۳، الجزء الثانی)
(3)…حضرت سلیمان بن حرب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :ایک دن حضرت حماد بن زید رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حدیث پاک بیان کی توایک شخص کسی چیز کے بارے میں  کلام کرنے لگ گیا،اس پر حضرت حماد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ غضبناک ہوئے اور کہا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
	’’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘(حجرات:۲)	
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
	اور میں  کہہ رہاہوں  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا جبکہ تم کلام کر رہے ہو (یعنی آواز اگرچہ میری ہے لیکن کلام تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے،پھر تم اس کلام کو سنتے ہوئے کیوں  گفتگوکر رہے ہو) ۔( شعب الایمان، الخامس عشر من شعب الایمان... الخ، ۲/۲۰۶، روایت نمبر: ۱۵۴۶)
آیت ’’لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ سے متعلق 3 اَہم باتیں 
	یہاں  اس آیت سے متعلق 3اَہم باتیں  ملاحظہ ہوں :
(1)… بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جو ادب و احترام اس آیت میں  بیان ہوا، یہ آپ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں  ہے بلکہ آپ کی وفات ِظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب و احترام باقی ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اب بھی حاجیوں  کو حکم ہے کہ جب روضۂ پاک پر حاضری نصیب ہو تو سلام بہت آہستہ کریں  اور کچھ دور کھڑے ہوں  بلکہ بعض فُقہا نے تو حکم دیاہے کہ جب حدیث ِپاک کا درس ہو رہا ہو تو وہاں  دوسرے لوگ بلند آواز سے نہ بولیں  کہ اگرچہ بولنے والا (یعنی حدیث ِپاک کا درس دینے والا) اور ہے مگر کلام تو