مسجد میں آواز بلند نہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا:
’’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘(حجرات:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
اور ایک جماعت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘(حجرات:۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
اور ایک جماعت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ‘‘(حجرات:۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔
بے شک وصال کے بعد بھی حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت ایسی ہے جیسی آپ کی ظاہری حیات میں تھی۔ (یہ سن کر) ابو جعفر نے عاجزی کا اظہار کیا اور کہا: اے ابو عبداللہ! میں قبلہ رُو ہوکر دعا کروں یا، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف رخ کروں ؟ امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: تُو حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیوں رُخ پھیرتا ہے حالانکہ حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تیرے اور تیرے جد ِاَمجد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وسیلہ ہیں ، تُو حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف رُخ کر اور شفاعت کی درخواست کر، اللہ تعالیٰ تیرے لئے شفاعت قبول فرمائے گا۔( الشفا، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واعلم ان حرمۃ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ص۴۱، الجزء الثانی)
(2)…امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ (مسجد ِنَبوی میں درس دیا کرتے تھے ،جب ان) کے حلقہ ٔدرس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی : آپ ایک آدمی مقرر کر لیں جو (آپ سے حدیث پاک سن کر) لوگوں کو سنا دے ۔امام مالک رَضِیَ