Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
400 - 764
ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں  تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں  (اور جب ایسا ہے) تو میں  جہنمی ہوگیا ۔حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ صورت ِحال حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  عرض کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’(وہ جہنمی نہیں ) بلکہ وہ جنت والوں  میں سے ہیں ۔( مسلم، کتاب الایمان، باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، ص۷۳، الحدیث: ۱۸۷(۱۱۹))
	نوٹ:صحیح مسلم کی اس روایت میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے اور تفسیر ابنِ منذر میں  حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ہی مروی یہی واقعہ مذکور ہے، اس میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی بجائے حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے ،اس کے بارے میں  علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے پوچھنا زیادہ درست ہے کیونکہ آپ کا تعلق حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے قبیلہ (خزرج) سے ہے اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے مقابلے میں  ان کا حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا پڑوسی ہونا زیادہ واضح ہے کیونکہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا تعلق دوسرے قبیلے (یعنی اَوس) سے تھا۔( فتح الباری، کتاب المناقب، باب علامات النّبوۃ فی الاسلام، ۷/۵۱۷، تحت الحدیث: ۳۶۱۳)
	نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنو تمیم کا وفد سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوا اور یہ سن 9ہجری کا واقعہ ہے جبکہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ تو سن 5ہجری میں  غزوہ بنوقریظہ کے بعد وفات پا گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی وفات نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بہت بعد کی ہے ۔
(4)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  :میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منبر کے پاس تھا،ایک شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں  صرف حاجیوں  کو پانی پلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔دوسرے شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں  مسجد ِحرام کو آباد کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔تیسرے شخص نے کہا:اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنا تمہاری کہی ہوئی باتوں  سے افضل ہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے انہیں  ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے