نیزیہ بھی ضروری نہیں ہے کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے کوئی بے ادبی سرزَد ہوئی ہو جس پر انہیں تنبیہ کی گئی ہو،عین ممکن ہے کہ پیش بندی کے طور پر انہیں یہ آداب تعلیم فرمائے گئے ہوں اور بے ادبی کی سزا سے آگاہ کیا گیا ہو۔
آیت ’’لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ کے نزول کے بعد صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا حال:
جب یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بہت محتاط ہو گئے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے گفتگو کے دوران بہت سی احتیاطوں کو اپنے اوپر لازم کر لیا تاکہ آواز زیادہ بلند نہ ہو جائے، نیز اپنے علاوہ دوسروں کو بھی ا س ادب کی سختی سے تلقین کرتے تھے ،اسی طرح آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد آپ کے روضۂ انور کے پاس (خود بھی آواز بلند نہ کرتے اور) دوسروں کو بھی آواز اونچی کرنے سے منع کرتے تھے ،یہاں اسی سے متعلق 6 واقعات ملاحظہ ہوں :
(1)… حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جب یہ آیت’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ کی قسم! آئندہ میں آپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا۔( کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الافعال،فصل فی التفسیر،سورۃ الحجرات،۱/۲۱۴، الجزء الثانی، الحدیث: ۴۶۰۴)
(2)…حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ـ:یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا حال یہ تھا کہ آپ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتّٰی کہ بعض اوقات حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات، ۵/۱۷۷، الحدیث: ۳۲۷۷)
(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور (اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے) کہنے لگے: میں اہلِ نار سے ہوں ۔ (جب یہ کچھ عرصہ بارگاہِ رسالت میں حاضر نہ ہوئے تو) حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کا حال دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میری معلومات کے مطابق انہیں کوئی بیماری بھی نہیں ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے کہا:یہ آیت نازل